Difference between revisions 3147764 and 3150968 on urwiki

{{Infobox Writer
| name = سید فضل حسین شاہ
| color= #B0C4DE 
 <!-- Image and Caption -->
| image = Fazal H Shah 01.jpg
| imagesize = ‎(157 × 240 pixels.l  
| caption = '''سید فضل حسین شاہ درمیان میں کھڑے ہیں، فوٹو''' [[1944]]
| pseudonym = 
(contracted; show full)ھی مالکانہ حقوق کے ساتھ ہبہ کیا، بیروٹ میں آباد اس سادات خاندان کے مورث اعلیٰ جیون شاہ کو ایک سانحہ کے نتیجے میں راہی لورہ سے بے وطن ہونا پڑا، پہلے وہ نڑول ([[آزاد کشمیر]]) گئے اور وہاں سے وہ بیروٹ آئے اور بیروٹ کی پہلی [[مسجد]] کی [[امامت]] اختیار کی اور پھر وہ یہیں کے ہو کر رہ گئے، ان کے یہاں چار فرزند ہوئے، سید فضل حسین شاہ مشہدی ان کے بڑے بیٹے نور حسین شاہ کی دوسری بیوی کی اولاد میں سے سب سے بڑے بیٹے ہیں۔

==ولادت، تعلیم اور تدریس==

'''سید فضل حسین شاہ [[1900]] میں بیروٹ میں پیدا ہوئے، 
،<ref>[http://tribescb.blogspot.com/ Tribes of Circle Bakote<!-- خودکار تخلیق شدہ عنوان -->]</ref> ابتدائی تعلیم اپنے والد سید نور حسین شاہ سے حاصل کی، وہ مزید دینی و عصری تعلیم کے لیے اس وقت کے معلم سید معصوم علی شاہ کے گشتی [[مدرسہ]] (Mobile School) میں داخل ہوئے، وہ پیدائشی طور پر ایک ذہین اور ہونہار شاگرد تھے، انہوں نے اپنی محنت اور لگن سے دوسال میں ہی پرائمری امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کر لیا اور محض 12سال کی عمر میں کہو شرقی، باسیاں اور دیگر مقامات پر اپنے استاد سید معصوم علی شاہ کے ہمراہ درس و تدریس میں مشغول ہو گئے مگر [[1918]] میں جب ان کے استاد نے انہیں [[اہل تشیع]] کے [[مسلک]] سے منسلک کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے ان سے مسلکی اختلاف کرتے ہوئے ان کے سکول سے علیحدگی اختیار کر لی، اسی عرصہ میں ویرنیکلر پرائمری سکول بیروٹ میں مزید اساتذہ کی ضرورت محسوس کی تو سکول کے اول مدرس مولانا میاں محمد اسماعیل علوی کی تجویز پر آپ نے سکول جوائن کر لیا <ref>[http://edubirote.blogspot.com/ Educational History of Birote<!-- خودکار تخلیق شدہ عنوان -->]</ref>، اپنی لیاقت، اہلیت، علمیت اور گہری پیشہ ورانہ وابستگی کی بنا پر اس وقت کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر منموہن رام نے ان کی ترقی کی سفارشات پیش کیں اور ایک تقریب میں انہیں نائب مدرس کے عہدے پر فائز کر دیا گیا، [[1919]] میں ان کے والد نور حسین شاہ کی خواہش اور مولانا میاں میر جی علوی کی کوششوں سے حضرت مولانا [[میاں پیر فقیراللہ بکوٹی]] نے اپنی سوتیلی مگر جان سے عزیز بیٹی زلیخا کو ان کے عقد میں دیدیا اور ان کے ہی کہنے پر اپنے والد کی جگہ بیروٹ کی مرکزی جامع مسجد بگلوٹیاں میں امامت اور خطابت کے فرائض بھی سنبھال لیے، آپ(contracted; show full)==حوالہ جات==
{{Reflist}}

==بیرونی روابط==
*[http://edubirote.blogspot.com بیروٹ کی تعلیمی تاریخ]
*[http://syedbirote.blogspot.com/ تاریخ مشہدی سادات (بیروٹ)]
*[http://mbirotvi.blogspot.com مخلص بیروٹوی، فرزند سادات بیروٹ]
*[http://sfhteacher.blogspot.com/ سید فضل حسین شاہ
  ، ایک لافانی استاد]
*[https://en.wikipedia.org/wiki/Syed_Fazal_Husain_Shah سید فضل حسین شاہ کون تھے؟]

[[زمرہ:1900ء کی پیدائشیں]]
[[زمرہ:1958ء کی وفیات]]
[[زمرہ:علماء علوم اسلامیہ]]
[[زمرہ:مسلم مذہبی شخصیات]]