Difference between revisions 3150968 and 3259541 on urwiki{{Infobox Writer | name = سید فضل حسین شاہ | color= #B0C4DE <!-- Image and Caption --> | image = Fazal H Shah 01.jpg | imagesize = (157 × 240 pixels.l | caption = '''سید فضل حسین شاہ درمیان میں کھڑے ہیں، فوٹو''' [[1944]] | pseudonym = (contracted; show full)حضرت مولانا میاں محمد اسماعیل علوی، سید فضل حسین شاہ مشہدی اور [[شاعر کوہسار مولانا میاں محمد یعقوب علوی بیروٹوی]]<ref>[http://myabirotvi.blogspot.com/ Molana Yaqoob Alvi Birotvi Umer Khyam of Circle Bakote<!-- خودکار تخلیق شدہ عنوان -->]</ref> کے نام قابل ذکر ہیں، ان اساتذہ کرام نے تعلیم و تدریس کے میدان میں مقامی لوگوں کی دو نسلوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا اور علم کی ان راہوں کو روشن کیا جن پر چل کر آج بیروٹ کے لوگ ہر شعبہ [[زندگی]] میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔''' == خاندانی پس منظر == سید فضل حسین شاہ مشہدی حسینی سادات قبیلہ<ref>[http://www.ziyaraat.net/findbook.asp?Escritor=All&srchwhat=All&orderby=titulo&idioma=All&submit=Display+Books&Tema=Islamic%20History Ziaraat.com - Online Books<!-- خودکار تخلیق شدہ عنوان -->]</ref> سے تعلق رکھتے ہیں، [[سانحہ کربلا]] کے بعد حضرت سجاد ([[زین العابدین]]) کے جانشینوں نے [[بنوامیہ]] کے ان قاتلان [[حسین]] سے [[تحریک علویہ]] <ref>تاریخ علوی اعوان از محبت حسین اعوان، کراچی</ref> کے پرچم تلے جس انتقام کی بنیاد رکھی اس سے [[عالم اسلام]] کا بچہ بچہ آگاہ ہے، آپ کے آبا و اجداد [[مدینہ]] سے سر زمین [[عراق]] اور مشہد ([[ایران]]) سے ہوتے ہوئے [[ہندوستان]] میں آئے، گکھڑوں کے عہد میں لورہ کے ڈھونڈ عباسیوں نے ان کی دینی، تعلیمی اور دیگر خدمات مستعار لیں اور انہیں ایک بڑا زرعی خطہ اراضی بھی مالکانہ حقوق کے ساتھ ہبہ کیا، بیروٹ میں آباد اس سادات خاندان کے مورث اعلیٰ جیون شاہ کو ایک سانحہ کے نتیجے میں راہی لورہ سے بے وطن ہونا پڑا، پہلے وہ نڑول ([[آزاد کشمیر]]) گئے اور وہاں سے وہ بیروٹ آئے اور بیروٹ کی پہلی [[مسجد]] کی [[امامت]] اختیار کی اور پھر وہ یہیں کے ہو کر رہ گئے، ان کے یہاں چار فرزند ہوئے، سید فضل حسین شاہ مشہدی ان کے بڑے بیٹے نور حسین شاہ کی دوسری بیوی کی اولاد میں سے سب سے بڑے بیٹے ہیں۔ == ولادت، تعلیم اور تدریس == '''سید فضل حسین شاہ [[1900]] میں بیروٹ میں پیدا ہوئے، ،<ref>[http://tribescb.blogspot.com/ Tribes of Circle Bakote<!-- خودکار تخلیق شدہ عنوان -->]</ref> ابتدائی تعلیم اپنے والد سید نور حسین شاہ سے حاصل کی، وہ مزید دینی و عصری تعلیم کے لیے اس وقت کے معلم سید معصوم علی شاہ کے گشتی [[مدرسہ]] (Mobile School) میں داخل ہوئے، وہ پیدائشی طور پر ایک ذہین اور ہونہار شاگرد تھے، انہوں نے اپنی محنت اور لگن سے دوسال میں ہی پرائمری امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کر لیا اور محض 12سال کی عم(contracted; show full)لانا میاں میر جی علوی کی کوششوں سے ہی ان کے قریبی رشتہ دار اور بیروٹ خورد کی قریشی برادری کے سربراہ مولانا میاں نور عالم قریشی کی اکلوتی صاحبزادی حنیف جان کو ان کی زوجیت میں دیدیا گیا، اس تعلق نے سید فضل حسین شاہ کے لیے سماجی ترقی، علمی آفاق جہاں روشن ہوئے وہاں ہی اپنوں کی کمی کو خاصی حد تک کم کر دیا، سید فضل حسین شاہ نے بھی اس [[احسان]] کا بدلہ ان کے بیروٹ خورد سے دائمی انخلا کی صورت میں ممکن بنا کر ادا کیا، انہوں نے اپنی محدود آمدنی کے باوجود اپنی ساری نرینہ اولاد کو اعلیٰ تعلیم دی۔''' == سید فضل حسین شاہ کی شخصیت کا دوسرا پہلو == '''وہ ایک روشن خیال ٹیچر ہونے کے باوجود اپنی بیٹیوں کو پرائمری سے زیادہ تعلیم دینے کے حق میں نہیں تھے، انہوں نے اپنے ایک یتیم بھانجے خوشنود المعروف ٹہلا شاہ کو بھی سکول نہیں بھیجا بلکہ اسے پرائی اولاد سمجھ کر نہ صرف اپنا بے دام نوکر بنایا بلکہ ان کی اولاد نے ان کے بعد اسے باقاعدہ غلام سے بھی بد تر بنا دیا، دنیا جانتی ہے کہ ان کا ایک بیٹا اسے خنازیر کا مریض ہونے کے باوجود پتھروں سے مار مار کر لہو لہان کر دیا کرتا تھا، اس غلامی سے اس نے 1966 میں فرار ہو کر نجات پائی، جو سید فضل حسین شاہ کے مشن، تدریس کے مقدس مشن اور بہنوں اور بیٹیوں کی اولاد کے ساتھ امتیازی اور متعصبانہ سلوک کی وجہ سے ایک سوالیہ نشان ہے۔ ان کے خانگی کردار پر ان کے چھوٹے بھائی اشرف شاہ بھی عمر بھر شاکی رہے۔ ان کی بعض خانگی پالیسیوں کی وجہ سے ان کے بہنوئی سید غلام نبی شاہ، سید محمود شاہ، سگے بھائی سید غلام رسول شاہ کا ان سے زندگی بھر اختلاف رہا، انہوں نے ایک دوسرے کی غمی خوشی کو بھی چھوڑ دیا، واقفان حال جانتے ہیں کہ اگر ان کا سسرال ان کا ساتھ نہ دیتا تو شاید ان کا باقی رہنا بھی ممکن نہ ہوتا مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اتنی مشکلات کے باوجود انہوں نے عزت اور شہرت کمانے کے علاوہ جتنی بیروٹ میں جائداد بنائی اتنی ان کے خاندان میں کسی کو آج تک نصیب نہیں ہو سکی تاہم وہ اپنی حقیقی بیٹیوں کو بھی اپنی جائداد میں حصہ دینے سے عملی طور پر محروم رہے یہی وجہ ہے کہ آج ان کی پانچ بیٹیوں کا نام ان کی جائداد کے کاغذات میں موجود نہیں ہے۔''' == وفات اور تدفین == '''سید فضل حسین شاہ [[1956]] میں اپنی سرکاری ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوئے، وہ ایک بیتاب شخصیت ہونے کی وجہ سے ہر وقت کچھ کرتے رہنا چاہتے تھے، انہوں نے چہٹے کی ٹہنڈی (جہاں آج کل ممتاز شاہ کا مکان ہے) میں بورڈنگ ہائوس کے نام سے ایک مکان بنوایا اور وہاں منتقل ہو گئے، یہاں انہیں اپنے خاندانی مخالفین پر اپنی اخلاقی، علمی، دینی اور سماجی برتری کی وجہ سے بھی ایک اطمینان حاصل ہوتا تھا ساتھ ہی گائوں بھر کے لوگ ان کے پاس اسی جگہ روحانی مسائل، مشکلات اور الجھنوں کے حل کے لیے بھی آتے اور من کی مراد پاتے، دن کو وظائف کرتے اور ساری ساری رات نوافل ادا کرتے ہوئے گزرتی، زندگی کے آخری برس مارچ کے بعد ان کی طبیعت خاصی خراب رہنے لگی، انہیں دمہ، مرض شقیقہ اور دیگر امراض بھی لاحق تھے، انہیں علاج معالجے کے لیے راولپنڈی میں حکیم نتھو کے پاس لایا گیا تو اس نے انہیں کینسر کا مریض قرار دیا، [[1958]] کے ستمبر میں ان کی دوسری بیٹی کی علوی اعوان برادری میں انہی کی خواہش پر شادی ہوئی اور اگلے ہفتے 28 ستمبر کو زندگی کے آخری سانس پورے کیے، انہیں بیروٹ کے اجتماعی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔''' == حوالہ جات == {{Reflistحوالہ جات}} == بیرونی روابط == *[http://edubirote.blogspot.com بیروٹ کی تعلیمی تاریخ] *[http://syedbirote.blogspot.com/ تاریخ مشہدی سادات (بیروٹ)] *[http://mbirotvi.blogspot.com مخلص بیروٹوی، فرزند سادات بیروٹ] *[http://sfhteacher.blogspot.com/ سید فضل حسین شاہ، ایک لافانی استاد] *[https://en.wikipedia.org/wiki/Syed_Fazal_Husain_Shah سید فضل حسین شاہ کون تھے؟] [[زمرہ:1900ء کی پیدائشیں]] [[زمرہ:1958ء کی وفیات]] [[زمرہ:علماء علوم اسلامیہ]] [[زمرہ:مسلم مذہبی شخصیات]] All content in the above text box is licensed under the Creative Commons Attribution-ShareAlike license Version 4 and was originally sourced from https://ur.wikipedia.org/w/index.php?diff=prev&oldid=3259541.
![]() ![]() This site is not affiliated with or endorsed in any way by the Wikimedia Foundation or any of its affiliates. In fact, we fucking despise them.
|