Difference between revisions 3259502 and 3509941 on urwiki

=  محل وقوع =
حضرت سید شیر علی غازی کی درگاہ ضلع پونچھ کے گاوں کھنیتر اپر مکھیالہ کی  چوٹی پر موجود ہے۔گاؤں کھنیترضلع پونچھ سے دس کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے ،کھنیتر سے ایک لنک روڈ سر زمین مکھیالہ کی طرف جاتی ہے  ،یہ سڑک درگاہ تک  ابھی نہیں پہونچی ہے اس کے اسباب جو بھی ہو ان  کا تذکرہ کرنا یہاں برمحل اور مناسب نہیں ہے یہ درگاہ مکھیالہ کی چوٹی پر واقع ہے  ۔ یہ گاؤں اپنی خوبصورت بلند وبالا چوٹيوں، گھنے جنگلات،زرخيز علاقوں کی بدولت مضافاتی علاقوں ميں مشہور ہے۔ پھر  اگران جگہوں کی نسبت ایسے اولیاے کرام سے ہو جو(contracted; show full)

= کشف وکرمات =
1)   ایک دفعہ کوئی پردیسی کہیں جا رہا تھا آپ اس وقت موضع شیندرہ میں مقیم تھے حضرت کے ہاں پہونچتے ہی شام ہو گئی رات کے لیے جگہ طلب کی مسافر کے ساتھ ایک گائے بھی تھی گائے کو مال مویشیوں کے کمرے (بانڈی) میں باندھ دی رات کو شیر نے گائے کونگل دیا صبح ہوتے ہو
ئے مسافر گائے کی عدم موجودگی کو دیکھ کر ششدر رہ گیا حضرت کے دربار میں عرض کی، پیر شیر علی شاہ نے شیر کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا مسافروں اور پردیسیوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جاتا چنانچہ شیر نے فوراّ منہ کھولا اور گائے کو اُگل دیا ۔

(contracted; show full) ہوئے نہیں تھے لیکن علم لدُنی کی برکت سے وقت کے بزرگوں کے ِ سرگرو اور خاص وعام لوگوں کی جائے پناہ بن گئے تھے۔ بچپن سے ہی آپ کے باطن سے علوم کی لیاقت و استعداد کے آثار آتے تھے۔ آپ ساد ہ اور خوش مزاج تھے اور فحوائے کلام نہایت دلچسب تھا، آپ شعر و سخن سے بھی زوق رکھتے تھے۔ آپ نہ صرف شیندرہ درگاہ سلطانیہ اور اکبر شاہ بادشا کی درگاہوں کے جانشین اور تھے بلکہ گاؤں کھنیتر موضع مکھیالہ اپر شیرعلی شاہ بادشاہ علیہ رحمۃکی درگاہ کے جانشین  بھی رہے ہیں ،جب آپ پہلی مرتبہ شیر علی شاہ کے دربار پر حاضر ہوئے آپ اکیلے بیٹھے ہو
ئے تھے آپ کو ایک خطرناک شیر دکھائی دیا اسے دیکھ کر آپ پریشان ہوئے تھوڑی دیر کے بعدوہ شیر غائب ہو گیا رات میں سید شیر علی شاہ خواب گاہ میں تشریف لائے اور کہا یہ میرا شیر تھا ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے آپ یہیں مقیم ہو جائیں اور لنگر چلائیں عبادت اور ریاضت میں مشغول ہو جاؤ جب موصوف بیدار ہوئے آپ کے حوصلے بلند ہو گئے اور دل کی دنیا بدل گئی آپ تقریباّ یہاں 25 سال تک بحثیت سجادہ نشین رہے ہیں اور وقفے وقفے میں دربار سلطانیہ پر بھی حاضر ہوتے رہے۔ آپ کا وصال 8 دسمبر2005 بمطابق 13شعبان 1426هـ  بروز اَتوارہوا اور آپ کی تدفین دربار شیر علی شاہ رحمۃاللہ علیہ کے آنگن میں ہوئی، آپ کے وصال کے بعد آپ کے فرزند ارجمند حضرت مولانا سید امداد حسین شاہ  جانشین ہوئے۔

= 4حضرت سید امداد حسین شاہ =

 سید امداد حسین شاہ (آپ باحیات ہیں) آپ ایک عالم و فاضل ہیں آپ شیر علی شاہ کے دربار پر بحثیت سجادہ نشین ہیں ،آپ نے مزار کی تعمیر اورمسجد کی ازسر نو تعمیر کی حال ہی میں ایک مدرسہ (مکتب)کی سنگ بنیاد اسمبلی ممبر حویلی جناب شاہ محمد تانترے نے رکھی،مولنا صاحب اپنے والد مُحترم کی طرح سادہ اور شریف طبعیت کے مالک ہیں۔

   آپ نے تبلیغ، رشد و ہدایت کا سلسلہ مسلسل جاری رکھا ہے بابا شیر علی شاہ کے دربار پر پہلے ٹین کی چھت پڑی ہوئی تھی،لیکن موصوف نے اس درگاہ کی تجدید و مرمت کی اور اب ایک دلکش اور خوبصورت مزارتعمیر کروایاہے ،ان کی محنت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ روڑ کی سہولت میسر نہ ہونے کے باوجود  اس مکھیالہ کی چوٹی پر سامان ڈھو کر مسجّدشریف ،لنگر خانہ،اور مزار تعمیر کروائے یہاں پر ہر سال عُرس بڑی عقیدت و مُحبت سے منایا جاتا ہے اور بھاری تعداد میں زائرین اور عقیدت مندوں کی تشریف آوری ہوتی ہے۔

= حوالہ جات =
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}