Difference between revisions 3509941 and 3510113 on urwiki= [[محل وقوع]] = حضرت سید شیر علی غازی کی درگاہ [[ضلع پونچھ]] کے گاوں کھنیتر اپر مکھیالہ کی چوٹی پر موجود ہے۔گاؤں کھنیترضلع پونچھ سے دس کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے ،کھنیتر سے ایک لنک روڈ سر زمین مکھیالہ کی طرف جاتی ہے ،یہ سڑک درگاہ تک ابھی نہیں پہونچی ہے اس کے اسباب جو بھی ہو ان کا تذکرہ کرنا یہاں برمحل اور مناسب نہیں ہے یہ درگاہ مکھیالہ کی چوٹی پر واقع ہے ۔ یہ گاؤں اپنی خوبصورت بلند وبالا چوٹيوں، گھنے جنگلات،زرخيز علاقوں کی بدولت مضافاتی علاقوں ميں مشہور ہے۔ پھر اگران جگہوں کی نسبت ایسے اولیاے کرام سے ہو جو زہد و تقوی ،کشف و کمالات میں اعلی درجہ پر فائز ہو تو ان جگہوں کی قدرومنزلت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ خیرقدرت جب کسی چیز کی تکمیل کا ارادہ کر لیتی ہے تو اس کے لیے مخصوص اسباب و مقدمات پیدا کرتی ہے یہ چیزیں اپنے معینہ اوقات میں ظہور پزیر ہوتی ہیں۔ چنانچہ یہاں بھی ایسا ہی ہوا اس مکھیالہ کی چوٹی اور یہاں کے پہاڑوں ،بیابانوں ،جنگلوں کو آباد کرنے کے لیے حضرت سید شیر علی [[شاہ غازی]] کو پیدا فرمایا۔ = شجرہ نسب بابا شیر علی شاہ بادشاہ رحمۃ اللہ علیہ = سید شیر علی شاہ غازی بن سید اکبر شاہ بادشاہ بن سید سلطان شاہ غازی بن سید کرم شاہ غازی بن جعفر شاہ غازی بن اسحاق الحق شاہ بن موسی شاہ غازی بن قاسم شاہ غازی بن محمد عالم شاہ غازی بن غیاث الدین شاہ بن امام طاہر شاہ غازی بن عبد اللہ شاہ غازی بن ابو القاسم شاہ بن علاءالدین شاہ غازی بن عنایت شاہ غازی بن حیات [[محمد شاہ]] غازی بن اسمعیل شاہ غازی بن کمال شاہ غازی بن حسین شاہ بن احمد شاہ غازی بن زینب الدین شاہ غاذی بن [[نصیر الدین شاہ]] غازی بن عبد الکریم شاہ غازی بن وجہ الدین شاہ غازی بن [[ولی اللہ]] دین شاہ غازی بن محمد ثانی الغازی شاہ بن فیروز دین شاہ بن رضا دین شاہ بن سلطان ابو القاسم شاہ بن شاہ میر شاہ بن اسحاق شاہ بن موسی شاہ بن اول قاسم عبد اللہ شاہ بن محمد اول شاہ بن عالم شاہ بن ادریس شاہ بن ہارون شاہ بن یحی شاہ بن ابو بکر شاہ بن اسمعیل شاہ بن پیر مخدوم شاہ بن امام اسحاق الحق بن حضرت امام جعفر قدسی شاہ بن حضرت امام نقی بن امام تقی بن حضرت امام علی موسی رضا بن حضرت امام [[موسی کاظم]] بن حضرت امام جعفر صادق بن حضرت امام باقر بن حضرت امام زین العابدین بن حضرت امام حسین .راقم الحروف سید نثار بخاری کے اجداد بھی حضرت سید شیر علی شاہ غازی ہیں۔ نثار بخاری اور سید سرفراز بن [[الطاف حسین]] شاہ بن فرمان شاہ بن مہتاب شاہ بن حسن علی شاہ(بابا شیر علی شاہ بادشاہ اور حسن علی شاہ بھائی تھے) بن حضرت سید اکبر شاہ غازی بن حضرت سید احمد شاہ غازی بن سید سلطان شاہ غازی۔ [[دربار شیرو روحانیت اور حقانیت کے تناظر میں سید نثار بخاری|[1]]] = حالات زندگی = حضرت سید شیر علی شاہ سید سلطان شاہ غازی جن کی درگاہ گاؤں شیندرہ میں مرجع خلائیق ہے کے پوتے حضرت سید اکبر شاہ بادشاہ کے فرزند ارجمند تھے۔ بچپن ہی سے آپ پر عشق الہٰی غالب تھا ،آپ سردیوں کے موسم میں گاؤں شیندرہ کے نالے میں عبادت و ریاضت میں مشغول رہتے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ شیر کی سواری کیا کرتے تھے اسی نسبت سے آپ شیرعلی شاہ کے نام سے موسوم ہو گئے آپ سیر وسیاحت کرتے اور دوران سیر و سیاحت آپ اسلام کی ترویج و اشاعت بھی کرتے رہے آپ بلند پایا بزرگ رہے ہیں ،آپ نے تقریباّ 15سال تک چلہ کشی کی آپ اتنے بڑے صوفی بزرگ گزرے ہیں کہ آپ کی سگی بہن آپ سے ملنے آئی تو آپ نے منع کیا کہ میری نظر کسی عورت پر نہ پڑ جائے آپ مسلسل چلہ کشی کرتے رہے اور اپنی آنکھوں میں مرچ ڈال دی کہ کسی غیر محرمہ پر نظر نہ پڑ جائے بہن کے مسلسل اصرار کے باوجود دیدار نصیب نہیں ہوا۔ آپ عشق الٰہی اورنشہ محبت رسولﷺ میں مدہوش رہے ہیں اسی جذب ومستی کے عالم میں بابا صاحب پہاڑوں ،بیابانوں ،جنگلوں میں گھومتے رہتے اُن کی نیند سوزش عشق میں جل گئی اور چلچلاتی ہوئی دھوپ برداشت کرتے رہے اور آپ عبادت اور ریاضت میں مشغول رہے۔ ان کی تعلیمات کا لب ولباب نفس کشی، گوشہ نشینی، توکل بر خدا و قناعت و صبر و رضا تھا، کہا جاتا ہے کہ پیدائش سے ہی اس طرح کے اَثار ملنے لگے تھے کہ یہ بچہ اگے چل کر ایک بڑا متقی و پ رہی ز گار اور بردبار بزرگ بنے گا۔ حقیت یہ ہے کہ ان کی [[تعلیم و تربیت]] کسی مدرسہ یا خانقاہ کی مرہون منت نہ تھی بلکہ انہوں نے جو کچھ بھی حاصل کیا تھا وہ اپنے اجداد سے اور روحانیت آپ کووراثت میں ملی تھی دوسرے عبادت و ریاضت ،چلہ کشی،گوشہ نشینی، ترک لذات سے حاصل کیا- [[(2)جہاں گشت بخاری کے جلالی سلسلے کے دو روشن ستارے نثار بخاری|(2)]] نور محمد نور اپنے شعری دیوان میں بابا شیر علی شاہ کے بارے میں یوں رقمطراز ہیں۔ '''رونق مزاراں دے اُتے روز لگدے میلے۔ حاجتمند کئی حاجت پاندے نال نیک وسیلے''' (contracted; show full)می اتحاد کا ایک بڑا ثبوت ان کا لنگر ہے۔ ہزاروں عقیدت مند بابا کے دربار پر آتے ہیں جبین نیاز جھکاتے ہیں فاتحہ کو ہاتھ اُٹھاتے ہیں۔ نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں اور سکون پاتے ہیں فقر و درویشی کے باوجود آپ کی خانقاہ سخاوت اور فیاضی کے لیے مشہور تھی مطبخ میں جتنا بھی کھانہ پکتا تھا وہ تمام غرباء و مساکین میں تقسیم ہو جاتا تھا۔ آج بھی آپ کے مزار پر ایک وسیع لنگر جاری ہے اور ہر غرباء و مساکین اور مفلوک الحال اس سے فیضیاب ہوتے ہیں۔ آج بھی گاؤں میں ان کے پھیلائے ہوئے نور کی کرنیں اُجالا کر رہی ہیں آپ نے اس علاقہ میں [[اسلامی تہذیب]] و تمدن کو حیا ت نو بخش کر ایک منفرد تاریخ رقم کی۔ عقیدت مند مرد ،چھوٹے ،بڑے والہانہ طور پر دن رات اس مرکز سعادت و ہدایت پر جوق در جوق آتے رہتے ہیں ۔ = قدیم اثاروں میں سے بابا صاحب کے چنداثار = ان قدیمی اثاروں میں سے بابا صاحب کا مٹی کا بنا ہوا برتن،ایک چھری لوہے کی اور ایک تسبیح جو حضرت بابا صاحب وردوظائف کے لیے استعمال کرتے تھے آپکے مریدوں کا حلقہ بہت وسیع تھا آپ کا کوئی مرید آپ کے وصال کے بعد راولپنڈی (پاکستان نو)اس تسبیح کو بطور تبرک لے گیا موصوف نے اس تسبیح کو [[گولڑہ شریف]] دربار پیر مہر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے آستانہ عالیہ پر پہنچا دی اور اس کو واپس پونچھ مکھیالہ بابا شیر علی شاہ کے دربار پر پہنچانے کے لیے کہا گویا 2012 میں سرزمین بھینچ پونچھ سے ایک شخص گولڑہ شریف تشریف لے گیا وہاں کے سجادہ نشین نے اس امانت کو مکھیالہ پہنچانے کے لیے حکم دیا ۔ یہ بھی بابا شیر علی شاہ غازی کی کرامت ہے کہ ان کے وصال کو لگ بھگ ڈیڑھ سو سال گزر گئے ہیں لیکن ان کے اس آثار ( تسبیح) کو قدرت نے محفوظ رکھا اور ہم پر یہ احسان کیا کہ ہم اس تبرک کا دیدار کریں اور اولیاءاللہ کی طاقت کا (contracted; show full) ہدایت کا سلسلہ مسلسل جاری رکھا ہے بابا شیر علی شاہ کے دربار پر پہلے ٹین کی چھت پڑی ہوئی تھی،لیکن موصوف نے اس درگاہ کی تجدید و مرمت کی اور اب ایک دلکش اور خوبصورت مزارتعمیر کروایاہے ،ان کی محنت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ روڑ کی سہولت میسر نہ ہونے کے باوجود اس مکھیالہ کی چوٹی پر سامان ڈھو کر مسجّدشریف ،لنگر خانہ،اور مزار تعمیر کروائے یہاں پر ہر سال عُرس بڑی عقیدت و مُحبت سے منایا جاتا ہے اور بھاری تعداد میں زائرین اور عقیدت مندوں کی تشریف آوری ہوتی ہے۔ = حوالہ جات = == حوالہ جات == {{حوالہ جات}} ⏎ [[زمرہ:خودکار ویکائی]] All content in the above text box is licensed under the Creative Commons Attribution-ShareAlike license Version 4 and was originally sourced from https://ur.wikipedia.org/w/index.php?diff=prev&oldid=3510113.
![]() ![]() This site is not affiliated with or endorsed in any way by the Wikimedia Foundation or any of its affiliates. In fact, we fucking despise them.
|