Difference between revisions 574105 and 579596 on urwiki

سواۓ شاعری ، نثر (ادبی) اور مذہب کے ، تمام تر علوم میں انتہائی پسماندہ اردو زبان کے لیۓ اردو دائرۃ المعارف نے ابتداء سے ہی یہ کوشش رکھی کہ جس قدر ہوسکے ان علوم کی اصطلاحات کو اردو ہی میں درج کیا جاۓ جو کہ اردو سے غالبا{{زبر}} یکسر ناپید ہیں۔ اس کوشش کے دوران جب کسی اصطلاح کا ایسا اندراج سامنے آۓ کہ جو عربی ابجد کو استعمال کرتے ہوۓ انگریزی میں (یعنی عربیزدہ انگریزی) لکھا گیا ہو تو دائرۃ المعارف کی جانب سے اس کی اصلاح کر کہ اردو متبادل سے تبدیل کرنے کی سعی کی جاتی ہے۔ اس سعی پر جو بار بار کا ایک گھسا پٹا ردعم(contracted; show full)
==کیا صرف اردو؟==
یہ دوسری زبانوں کو اپنے اندر سمو لینے والی بات محض اردو زبان کے لیۓ مخصوص نہیں ہے؛ ہر زبان انسانی رابطے کا ایک زریعہ ہوتی ہے اور اس زبان کو استعمال کرنے والے افراد اس میں وہ الفاظ استعمال کر سکتے ہیں کہ جس کے بارے میں ان کو یہ اندازہ ہو کہ وہ مخاطب کی سمجھ میں آجائیں گے۔ کسی بھی زبان میں اس کے قواعد کے دائر
ہءۂ کار میں رہتے ہوۓ ، کسی دوسری غیرزبان کا کوئی بھی لفظ استعمال کیا جاسکتا ہے؛ 
* جیسے اردو میں کہا جاۓ کہ : اس نے خود کو اس کام کے لیۓ {{لقمہ}}کمیٹڈ{{بند}} کر لیا ہے۔ 
* تو ایسے ہی انگریزی میں کہا جاسکتا ہے کہ : {{د2}} He was a prominent{{لقمہ}} mufassir{{بند}} of his time.{{دخ2}}
(contracted; show full)ہ جس میں یہ سائنسی اور جدید علوم کی اصطلاحات آنا شروع ہوئیں۔ جدید علوم الدنیا کو اردو میں سمونے کے بجائے اردو میں انگریزی سموئی جانے لگی۔ برصغیر میں مسلمانوں کی آمد سے لے کر مغلیہ دور کے اواخر تک یہاں فارسی ہی کا سکہ چلتا رہا اور ہندوؤں نے بھی فارسی کو بخوشی و بخوبی اپنایا کیونکہ یہ ناصرف تمام اداروں اور دفاتر میں لازم تھی بلکہ اس کا سیکھنا تہذیب یافتہ اور تعلیمیافتہ ہونا تصور کیا جاتا تھا ، بالکل ایسے ہی کہ جسے آج کسی انگریزی نا سمجھنے والے کو انگریزی سمجھنے والے کی نسبت جاہل سمجھا جاتا ہے۔ فارسی کے یوں ا
ھہم ترین زبان کا رتبہ رکھنے والے دور میں بھی عربی کی علمی حیثیت اپنی جگہ برقرار تھی اور عربی زبان کی تحصیل کے بغیر اعل{{ا}}ی تعلیمی اسناد کا حاصل ہونا ممکن نہیں تھا۔ 
===اردو نوازی===
بہرحال یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ انگریز قوم جب یہاں آئی تو اس کے سامنے سب سے اھہم ہدف یہ تھا کہ یہاں عرصے سے حکومت کرتی چلی آنے والی قوم کو ذہنی طور پر کمزور اور ناتواں کیا جائے اور اس سلسلے میں سب سے اھہم کردار علوم الدنیا سے ہم آہنگ نا رہ سکنا کرتا ہے یعنی نفسیاتی طور پر جب کوئی قوم (یا فرد) علوم الدنیا (یا اپنے ماحول میں آنے والی تبدیلیوں) سے ہم آہنگ نا رہ سکے تو وہ قوم ذہنی طور پر ناتواں اور مغلوب ہوجایا کرتی ہے۔ [[قرون وسطیٰ|قرون وسطٰی]] (middle ages) ہی نہیں بلکہ ساتویں صدی سے تیرھویں نہیں تو بارھویں صدی تک عربی زبان دنیا میں جدت کی علامت رہی؛ جو کام آج اس ویکیپیڈیا پر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس کام کو [[1492ء]] کے بعد سے تمام یورپی کرنے میں جنون کی حد تک ملوث تھے اور عربی سائنسی مواد کے تراجم لاطینی(contracted; show full)ائنسی اصطلاحات موجود نہیں تھیں اور ان زبانوں کو جب چاہے انگریزی سے بھرا جاسکتا تھا (ہندی جاننے والے آج بھی اس حقیقت کو باآسانی ہندی ویکیپیڈیا پر ملاحظہ کرسکتے ہیں)۔ پس انگریز نے علمی اصطلاحات کے ذخائر سے اس نو محکوم قوم کو محروم کرنے کی خاطر فارسی کی جگہ اردو کو ترجیح دینا شروع کی، مقصد اس کا ایک ہی تھا کہ فارسی کی موجودگی میں عربی سے تعلق نہیں توڑا جاسکتا تھا لہ{{ا}}ذا اردو کو لاڈ پیار دیا جانے لگا۔

===ڈنڈے نہیں سوٹی سے مارو!===
مغلیہ دور کے اواخر سے اردو زبان درباروں میں جگہ پانے لگی تھی اور اس کی ایک ا
ھہم وجہ یہ تھی کہ اس زمانے کے شعراء اور ادباء نے اس میں نئی اور پرمغز اصطلاحات کا عربی اور فارسی امتزاج ڈالنا شروع کردیا تھا اب اردو بالغ ہوچکی تھی اور اس میں ناصرف مقامی زبانوں کے میٹھے الفاظ تھے بلکہ علمی عربی و فارسی روایات بھی تھیں۔ اسی وجہ سے ہندو اور مسلمان سمیت تمام قوم اس سے کسی نا کسی قسم کا تعلق محسوس کرتی تھی<ref name=abdulhaq>قواعد اردو ؛ مولوی عبد الحق : الناظر پریس واقع خیالی گنج لکھنؤ۔</ref> اور اس کی یہی وہ کیفیت تھی کہ جس سے فائدہ اٹھا کر انگریز نے فارسی اور عربی کا خاتمہ کر کہ اس(contracted; show full)ن کے [[عصبون|دماغی خلیات]] پیدائش کے وقت ہی مستحکم اور مستقل صورت اختیار کر لیتے ہیں آج کی جدید تحقیق سے غلط ثابت ہو چکا ہے۔ دماغ کے خلیات ، زندگی کے تجربات کے ساتھ ساتھ نا صرف نئے [[فعلیات|فعلیاتی]] عوامل میں تبدیل ہوتے رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ [[نسیجیات|نسیجیاتی]] و [[تشریح|تشریحی]] بنیاد پر بھی ان میں نئی ساختیں اور آپس میں نئے روابط بنانے کی اہلیت ہوتی ہے۔ زبان و الفاظ کی سطح پر طبی تحقیقدان اس بات پر متفق ہیں کہ زبان اور الفاظ انسانی دماغ کی اس [[لدونت|عصبی لدونت (neuroplasticity)]] میں انتہائی ا
ھہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کسی بھی لفظ سے پیدا ہونے والا تفکر یا کوئی خیال ، اس لفظ سے متعلق پس منظر میں موجود تجربات اور تجربات و تجزیات سے متعلق  synapses کو متحرک کر دیتا ہے اور یہ سلسلہ [[ادراک]] و [[آگاہی]] جیسے دماغ کے اعل{{ا}}ی افعال تک جاتا ہے۔ زبان اور الفاظ سے متعلق بات یہیں تک نہیں رہتی بلکہ یہ بات بھی ثابت ہو چکی ہے کہ زبان اور الفاظ کی وجہ سے اس synaptic plasticity (مشبکی لدونت) کا انحصار الفاظ کے لغوی پس منظر (گہرائی اور اپنائیت) سے متاثر ہوتا ہے اور اس لدونت سے عصبونات یا دماغی خلیات میں نئے دوران (circuits) پیدا ہو جاتے ہیں؛ اور اس کا براہ راست نتیجہ دماغی صلاحیت میں اضافے، نئی سوچ اور نئے تخیلات کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

===لسانی تباعد کیا ہے؟===

==حوالہ جات==
<references/>


[[زمرہ:وکیپیڈیا]]
[[زمرہ:اردو]]
[[زمرہ:لسانیات]]